Ticker

6/recent/ticker-posts

گل بخشالو ی ! ایک ا محب ِ وطن شاعر Gul Bakhshalvi : Watan Se Mohabaat Karne Wale Shayar

گل بخشالو ی ! ایک ا محب ِ وطن شاعر

پروفیسر غازی علم دین

اپنے وطن عزیز پاکستان سے محبت کر نے والے شاعر حضرت گل بخشالوی میرے دل کے اس لئے قریب ہیں کہ اسلام، پاکستان اور اردو زبان کے ساتھ ان کی وابستگی اٹوٹ ہے ان کی مادری زبان پشتو، روز مرہ کی پنجابی، علمی ادبی اور قومی زبان اردو ہے گل بخشالوی کے نزدیک پاکستان میں بولی جانے والی سب زبانیں ایک گل دستہ کی مانند ہیںاور اردو اس گل دستہ کا گلِ سر سبد ہے، وہ شعوری طور پر وفاقِ پاکستان کے حامی، صوبائی ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کے علم بردار ہیں ان کی شاعری میں حب الوطنی کے عناصر جابجا ملتے ہیں انہوں نے کئی ملکوں کی سیر کی لیکن ہر جگہ اور ہر ملک میںاپنے وطن کی مٹی اور محبت کے اسیر رہے، اپنے وطن کی مٹی،نباتات و جمادات، فضائیں، ہوائیں ا لغرض ہر چیز اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اردو ز بان سے ان کی شاعری کے لفظ لفظ بلکہ حرف حرف سے عیاں ہوتی ہے۔ عظیم پختون محب ِ وطن، سابق چیف انجینئر تربیلا ڈیم، سابق چیئر مین واپڈا،پریذ یڈنٹ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے زبردست حامی شمس الملک کی پیروی میںحضرت گل بخشالوی بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے موید اور حامی ہیں یہ ان کی جزبہءحب الوطنی کی معراج ہے۔
حضرت گل بخشالوی کی شاعری کا بالا ستیعاب مطالعہ کرنے کے بعد قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک مزاحمتی اور انقلابی شاعر ہیں ۔ اشرافیہ اور ارباب ِ کی بے حسی،لوٹ کھسوٹاور چھینا چھپٹی کا شکوہ ان کی شاعری کا اہم موضوع ہے ان کی شاعری نظامِ جبر کے خلاف کھلا جہاد ہے وہ اپنے قلمی جہاد کے ذریعے ہمہ وقت آزادی ءرائے اور جرات ِ اظہار کے لئے کوشاں رہتے ہیں
حضرت گل بخشالوی کی شاعری اپنے معاشرے کی حا لت کی عکاس ہے ان کے اندر کا انسان غریب کی غر بت، افلاس، بھوک اور فقر وننگ کو دیکھ کر سلگتا رہتا ہے ان کی شاعری استحصالی طبقے کے خلاف صورِ اسرفیل سے کم نہیں ہے وہ حقیقت میں غریب کی آواز ہیں۔اپنے اہلِ وطن کے مسائل کا انہیں بھر پور احساس ہے ان کی شاعری سے یہ سبق ملتا ہے کہ جبر اور ظلم و ستم کے آگے خاموش رہنا بہت بڑا جرم ہے ایک ادیب اور صحافی کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ ان سفلی رویوں کے خلاف سینہ سپر ر ہے ۔ حضرت گل اپنی افتادِ طبع اور تربیت کے اعتبار سے، دل و جان سے ایک سچے مسلمان ہیں راقم کے اس دعوے کا ثبوت حضرت گل بخشالوی کی نعتیہ شاعری ہے جس میں عشق ِ رسول مشامِ جان کو معطر کرتا ہے وہ دینی اقدار کے امین اور قومی اہمیت کے علم بردار ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں قلم کی طاقت بخشی ہے مگر انہوں نے اپنا قلم بیج کر قلم اور قلم قبیلے کو کھبی رسوا نہیں کیا، انہوں نے بحثیت ادیب، شاعر اور صحافی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قلم کی حرمت کے پاسدار ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ضمیر فروش ادیبوں اور صحافیوں کے کالے کرتوت طشتِ ازبام کرتے ہیں!
سیاست ِ حاضرہ پر حضرت ِ گل کی گہری نظر ہے انہوں نے اپنے حیات مستعار میںپاکستان میں رونما ہونے والے کئی سیاسی انقلا ب اور حکومتوں کے رد و بدل کو بڑے قریب سے دیکھا ہے کئی سیاسی تحریکوں میں وہ شامل رہے ہیں بندوقوں کی گولیاں کھائیں جھوٹے مقدمات جھیلے اور جیل یاترا بھی کی ان کی علمی اور قلمی جدوجہد ابھی تک جاری ہے سیاسی ناپسندیدہ رویوں کے خلاف بھی ان کی تحریریں نشتر کا کام کر رہی ہیں وہ نظامِ عدل سے مطمئن نہیں، نام نہاد عدل کے ہاتھوں قتل ہونے والے زعماءکے غم میں دل گرفتہ ہیں عساکر پاکستان کی قربانیوں، جراتوں اور کامیابیوں پر انہیں خر اجِ تحسین پیش کرتے ہیں، آزادی ءکشمیر کے محاز پر ان کا قلم خاموش نہیں ہے بلکہ کشمیر کے المیے پر مسلسل خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں اور شہداءکو خراجِ تحسین پیش کرتے رہتے ہیں ۔ اکابر ِ پاکستان بالخصوص علامہ اقبال اور قاید ِ اعظم محمد علی جناح کو اپنا آئیڈل بناتے ہوئے نئی نسل کو ان کے افکار کی روشنی منتقل کرتے رہتے ہیں۔علامہ اقبال کی شاعری کے والہ و شیدا ہیں
Gul Bakhshalvi : Watan Se Mohabaat Karne Wale Shayar

Gul Bakhshalvi : Watan Se Mohabaat Karne Wale Shayar

حضرت گل بخشالوی کی شاعری میں ہجرت کے کرب کی دبی چنگاریاں بھی ملتی ہیں ہجرت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا حضرت ِ انسان۔ ابن آدم کےعلاوہ اس کرہءارض سے وابستہ پرندے ،چوپائے، جانور، آبی مخلوقات اور حشرات الارض بھی ہزاروں سا لوں سے ہجرت کرتے چلے آ رہے ہیں مگر ان کی ہجرتوں میں جبلی ضرورتیں کار فرما رہی ہیں جہاں تک انسانی ہجرت کا تعلق ہے ان میں جبلی محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ ِ انسانی میں ہجرت کے پیچھے اعلیٰ و ارفع مقاصد بھی رہے ہیں ہجرت ِ مدینہ تاریخ ِ عالم کا ایک روشن باب ہے جس نے ہجرت کے لفظ اور مفہوم کو تقدس بخشا مگر اس ہجرت سے بھی ایثار، کرب، اور تکلیفیں وابستہ ہیں۔ حضرت گل بخشالوی کی شاعری میں ہجرت کی صدائے باز گشت سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ہجرت کی وجہ سے ان کے ا پنے زخم بھی ابھی تازہ ہیں اس ہجرت کے کرب کی دبی چنگاریاں ان کی شاعری میں سلگتی رہتی ہیںاور وہ اس سے اپنی تہذیب ِ نفس کرتے رہتے ہیں
حضرت گل کی غزل میں ہمیں تغزل کا بانکپن نظر آتا ہے گل کی غزل، جہاں اپنے اندر سوز و گداز سموئے ہوئے ہے وہاں طنز کی گہری کاٹ بھی رکھتی ہے گل اپنی غزل میں جابجا امیر ِ شہر کی چیرہ دستیوں، ضمیر فروشوں اور ہوس کوشیوں کو طشت ِ از بام کرتے ہیں اور طنز کے تیر برساتے نظر آتے ہیں۔ غزل تتلی کے پروں کی طرح نازک سی چیز ہے اور جب ناپختہ گو شعراءکے ہاتھ آتی ہے تو کہیں کہیں بے احتیاطی سے رنگ چھٹ بھی جاتے ہیں حضرت گل بخشالوی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ وہ غزل کے فنی تقاضے پورے کریں
راقم السطور کو گل بخشالوی کی شاعری میں جو چیز نہال کرتی ہے وہ جدجہد کا سبق ہے، ہمت افزائی اور جرات آموزی ہے ان کی شاعری ملکی انتشار، افر اط و تفریط، بے حسی اور غیر انسانی رویوں کے خلاف کھلا جہاد ہے!
پروفیسر غازی علم دین
تصنیف ،، میزانِ انتقا دو فکر، اشاعت ،۱۲۰۲ئ
Gul Bakhshalvi
Cell: +92 302 589 2786

एक टिप्पणी भेजें

0 टिप्पणियाँ